23 نومبر 2010 - 20:30

رہبر معظم نے کریمہ اہل بیت سیدہ فاطمہ معصومہ (س) کے حرم میں ہزاروں علماء، فضلاء اور طلباء کی مجمع سے خطاب فرمایا جسے اہالیان قم نے منشور حوزات علمیہ کا عنوان دیا۔

 اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، 13 ذى‌القعدہ 1431 کو قم کے علماء، فضلاء اور طلباء کی اکثریت نے حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای ـ حفظہ اللہ تعالی ـ سے ملاقات کی۔ رہبر معظم نے ملاقات کے لئے آنے والے ہزاروں افراد سے خطاب فرمایا:13 ذى‌القعدہ 1431متن خطاب:

احتیاط

لیکن یہاں بھی آپ کو احتیاط اور توجہ کرنے کی ضرورت ہے یہاں "ایک مغالطہ" پیش نہ آئے؛ حوزات علمیہ کے استقلال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حکومت حوزہ کی حمایت نہ کرے اور حوزہ بھی نظام کی حمایت نہ کرے۔ بعض قوتوں کی یہی خواہش ہے۔ بعض لوگ "حوزہ کی خودمختاری" کے بہانے اور خودمختاری کے نام سے، اسلامی نظام اور حوزات علمیہ کے درمیان تعلق اور رشتے کو ختم کرنا چاہتے ہیں؛ یہ ممکن نہیں ہے۔ وابستگی الگ چیز ہے اور حمایت الگ چیز ہے، تعاون الگ چیز ہے ۔ نظام اسلامی حوزہ علمیہ کا مرہون منت ہے؛ چنانچہ اس کو حوزہ علمیہ کی حمایت کرنی چاہئے۔ البتہ طلباء کی معیشت معمول کی روایت کے مطابق ـ جو رمز و راز سے بھرپور اور بہت با معنی روایت ہے ـ کے مطابق عوام کے توسط سے ہی فراہم ہونی چاہئے؛ عوام اپنی شرعی وجوہات [خمس، زکاة  و صدقات و کفارات وغیرہ] حوزہ کو ادا کریں؛ یہ میرا اعتقاد ہے۔

انسان جتنا بھی اس قدیم روایت میں غور کرتا ہے ـ جو ایک یا ڈیڑھ صدی سے ہمارے حوزات علمیہ میں رائج ہے ـ اس کو زیادہ اہم، زیادہ راز و رمز سے بھرپور پاتا ہے۔ حوزات علمیہ کے ساتھ عوام کے مستحکم تعلق کا راز یہی ہے جس کی بنا پر عوام حوزہ علمیہ کے ساتھ قریبی رشتے کا احساس رکھتے ہیں۔ عوام عالم دین سے بہت زیادہ توقع بھی نہیں رکھتے مگر اپنے آپ کو حوزات علمیہ اور مخلص علماء کی مالی حمایت کا پابند سمجھتے ہیں؛ اور یہی درست ہے۔

تا ہم حوزہ کے مسائل صرف معیشتی مسائل نہیں ہیں۔ حوزات علمیہ کے ایسے اخراجات بھی ہیں جو بیت المال مسلمین کی مدد اور حکومتوں کی مدد کے بغیر کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کئے جاسکتے۔ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ ان اخراجات کو برداشت کریں۔ حکومتوں کی مداخلت بھی نہیں کرنی چاہئے [اور حوزہ کے خاص قسم کے اخراجات بھی برداشت کرنے چاہئیں]۔ مختلف شہروں میں بہت سے مدارس امراء اور سلاطین اور بزرگوں نے بنائے ہیں۔ مشہد مقدس میں تین مدارس ایک دوسرے کے برابر میں ایک ساتھ ہی بنائے گئے ہیں: "مدرسۂ نواب"، "مدرسۂ باقریہ" اور "مدرسۂ حاج حسن"۔ یہ تینوں مدارس ایک صفوی سلطان کے دور میں ان ہی کے حکم پر تعمیر کئے گئے تھے۔ اس میں کوئی عیب بھی نہیں ہے۔ مدرسۂ باقریہ ـ جہاں "ذخیرہ" اور "کفایہ" جیسی کتابوں کے مصنف، "ملا محمد باقر محقق سبزواری" تدریس کرتے رہے تھے ـ ان ہی لوگوں کے ہاتھوں تعمیر ہوا تھا۔ حوزہ علمیہ نظام اسلامی کی جانب سے مختلف قسم کی حمایتوں کو قبول کرتا ہے، عزت و مناعت اور وقار کے ساتھ۔ یہ حمایتیں جو آج نظام اسلامی کی جانب سے حوزات علمیہ کو فراہم کی جاتی ہیں اور اسے یہ حمایتیں بہرصورت کرنی بھی چاہئیں اور ان حمایتوں میں اضافہ بھی ہونا چاہئے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ حمایتیں صرف مادی حمایتیں ہی ہوں۔ آج بحمداللہ اہم ترین اور عمومی ترین مقام و منزلت اور بیانِ موقف کے بہترین و برترین مواقع حوزہ علمیہ کے فضلاء اور مراجع عطام کے ہاتھ میں ہیں؛ یہ بھی ان کے لئے نظام اسلامی کی حمایت کے زمرے میں آتا ہے۔ اسلامی نظام کو یہ حمایتیں کرنی چاہئیں، اسی رشتے اور پیوند کی بنا پر جس کی طرف اشارہ کیا گیا۔ چنانچہ مداخلت اور خودمختاری کے مسئلے کو اس سلسلے میں موجودہ حقائق کے ساتھ مخلوط نہیں کرنا چاہئے۔

دو عظیم اور مرتبط مجموعے 

حقیقت یہ ہے کہ یہ دو عظیم سلسلے ـ یعنی اسلامی نظام اور اس کے بطن میں حوزات علمیہ ـ دو ایسے عظیم سلسلے ہیں جو ایک دوسرے سے مرتبط ہیں، ایک دوسری سے متصل ہیں، ان دونوں کا مقدر ایک ہی ہے؛ اس حقیقت کو سب سمجھ لیں۔ آج اس سرزمین میں علماء کا مقدر اور اسلام کا مقدر اسلامی نظام کے مقدر سے بندھا ہوا ہے۔ اگر اسلامی نظام کو تھوڑا سے نقصان پہنچے یقینا اس کا نقصان علماء، اہل دین اور علمائے دین کے لئے معاشرے کے دیگر افراد کی نسبت بہت زیادہ ہوگا۔ البتہ نظام زندہ ہے، نظام اپنے پیروں پر کھڑا ہے، نظام قوی اور طاقتور ہے اور میں پورے اطمینان سے عرض کرتا ہوں کہ نظام اپنے سامنے موجود تمام چیلنجوں پر غلبہ پاکر فتح مند ہوجائے گا۔

تحول اور تبدیلی

ایک اور اہم مسئلہ ـ جو ہمیں درپیش ہے ـ اور اس کے بارے میں روشن موقف بیان کرنا ضروری ہے اور یہ مسئلہ حوزہ علمیہ ـ بالخصوص قم کے حوزہ مبارکہ ـ میں [مثبت] تحول اور تبدیلی کا مسئلہ ہے، تحول کا مطلب کیا ہے؟ حوزہ کو ایسا کونسا عمل انجام دینا چاہئے جس کو تحول کہا جاسکے؟ اگر ہم تحول کو حوزات علمیہ کے بنیادی خد و خال اور خطوط میں تبدیلی سمجھیں جیسے اسلوب اور روشِ اجتہاد میں تبدیلی ـ تو یہ قطعی طور پر ایک انحراف ہے۔ یہ تحول اور تبدیلی ہے لیکن یہ تحول سقوط اور نابودی کی جانب مائل ہے۔

شیعہ اجتہاد کیا ہے؟ تحول و تبدیلی کیا ہے؟

اجتہاد کا جو شیوہ حوزات علمیہ میں آج رائج ہے اور علمائے دین اس کے پابند ہیں یہ اجتہاد کے قویترین اور منطقی ترین شیوؤں میں سے ہے؛ یقین اور علم کی بنیاد پر قائم اجتہاد، وحی کے سہارے قائم اجتہاد؛ یعنی یہ اجتہاد ظن اور گمان سے دور ہے اور ہمارا استنباط علمی اور یقینی ہے۔ یہ جو خاص ظنون بھی ہیں ان کی حجیت بھی یقینی اور قطعی ہونی چاہئے۔ حتی ان اصول عملیہ کا اعتبار ـ جن سے ہم فقہ میں استفادہ کرتے ہیں ـ جزمی اور قطعی ہونا چاہئے۔ جب تک ایک قطعی دلیل کی روشنی میں ـ استصحاب، برائت اور اشتغال ہر ایک اپنے خاص راستوں اور مجراؤں اور چینلوں سے ـ  اس عملی اصول کے معتبر ہونے کے سلسلے میں قطع و جزم و یقین پیدا نہ کریں، اس عملی اصول سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ بلاواسطہ یا بالواسطہ طور پر، فقہ میں ہمارے تمام شیوے قطع و یقین پر منتج ہوتے ہیں۔

تشیع میں اجتہاد سے مراد غیر معتبر ظنون کا سہارا لینا نہیں ہے؛ یہی جو ہمارے قدیم علماء نے "اجتہاد بالرأی"، "غیر معتبر ظنون پر قائم اجتہاد" جیسے "قیاس"، جیسے "استحسان" اور ان کی مانند دیگر اصطلاحات کا نام لیا ہے اور ان کے بارے میں کتابیں لکھی ہیں: جیسے "اسمعیل بن ابی سہل نوبختی" نے "الرد علی اصحاب الاجتہاد فی احکام"،  سید مرتضی نے "الذریعۃ" میں، "شیخ طوسی نے ""عدةالاصول" میں اور دیگر و دیگر نے غیر معتبر ظنون پر قائم اس اجتہاد کو رد کیا۔ یہ اجتہاد مردود و مسترد ہے۔ آج بھی اگر بعض افراد کسی بھی نام و عنوان سے اس قسم کے اجتہادوں کی طرف رخ کریں تو یہ مردود ہے۔

یہ جو کہا جاتا ہے کہ "دنیا ہم سے یہ بات قبول نہیں کرتی، اس فقہی بات کا دنیا میں کوئی خریدار نہیں ہے، یا یہ کہ واضح طور پر اس بات کا اظہار کریں یا اپنے دل میں رکھیں اور انہیں ایک غلط استنباط کی جانب لے جائے، یہ مردود اور مسترد ہے۔

افسوس کا مقام ہے کہ بعض جگہوں پر دیکھا گیا ہے کہ صرف اس لئے کہ متمدن دنیا کے عرف کا لحاظ رکھا جائے ـ وہی دنیا جو غالباً مادی دنیا ہے ـ شرعی احکام کے استنباط میں دخل و تصرف کیا گیا ہے۔ حتی اس سے بھی بدتر، صرف اس لئے کہ بعض اوقات دنیا کی مادی طاقتوں کی خوشنودی حاصل کی جائے ـ رائج مادی دنیا کے عرف بلکہ مادی اور استکباری طاقتوں کے عرف کا لحاظ رکھا جائے ـ فتوی دیا گیا ہے کہ: "چونکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پرامن جوہری کوشش، بڑی طاقتوں کی بدگمانی کا سبب ہے لہذا یہ کوشش ممنوع ہے" اچھا، [ہم کہتے ہیں کہ] وہ بہت بڑی غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں بدگمان ہوکر [یعنی انہیں بدگمانی کرنے کا حق ہی حاصل نہیں ہے۔

اگر اجتہاد ان ہی درست اور صحیح شیوؤں سے یعنی کتاب و سنت کے سہارے، اور اسی معقول، منطقی اور پختہ انداز سے حساب و کتاب کے مطابق ـ سوچے سمجھے انداز سے انجام پائے تو یہ بہت اچھا ہے۔ اجتہادات ـ خواہ مختلف نتائج پر ہی منتج کیوں نہ ہوجائیں ـ بالیدگی ا